LIVE
Loading Breaking News...

سورج کی روشنی سے کوانٹم الجھاؤ کا حصول - نیکسورا نیوز

News Image
محققین نے کوانٹم فزکس میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے پہلی بار سورج کی روشنی سے براہ راست کوانٹم الجھاؤ پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مواصلاتی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
کوانٹم فزکس کی دنیا میں ایک انتہائی شاندار اور تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں محققین نے پہلی بار سورج کی روشنی سے براہ راست کوانٹم الجھاؤ یعنی کوانٹم انٹینگلمنٹ (Quantum Entanglement) پیدا کرنے کا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ کوانٹم فزکس میں الجھاؤ ایک ایسا عمل ہے جس میں دو یا دو سے زیادہ ذرات اس طرح آپس میں جڑ جاتے ہیں کہ ایک ذرے کی حالت میں تبدیلی دوسرے ذرے کو فوری طور پر متاثر کرتی ہے، چاہے وہ ایک دوسرے سے کتنے ہی فاصلے پر کیوں نہ ہوں۔ اب تک سائنسدان لیبارٹری کے اندر مصنوعی اور انتہائی پیچیدہ طریقوں سے لیزر بیمز کا استعمال کرتے ہوئے کوانٹم الجھاؤ پیدا کرتے آئے ہیں، جس کے لیے انتہائی مہتمم بالشان اور سائنسی لحاظ سے حساس ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، اس تازہ ترین تحقیق نے اس روایت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ محققین کی ٹیم نے ثابت کر دیا ہے کہ قدرت میں موجود سورج کی روشنی کو بھی مناسب سائنسی طریقوں اور آلات کی مدد سے اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو اس فیلڈ میں ایک نیا دور شروع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نئی دریافت کے نتیجے میں کوانٹم ٹیکنالوجی کو عام کرنے اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ کوانٹم کمپیوٹنگ، انتہائی محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس اور جدید سنسرز کی تیاری میں اس ٹیکنالوجی کا براہ راست استعمال مستقبل قریب میں ممکن ہو سکے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سورج کی روشنی سے حاصل ہونے والا یہ کوانٹم الجھاؤ روایتی سائنسی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ پائیدار اور وسیع پیمانے پر قابل عمل ثابت ہو سکتا ہے۔ سائنسی حلقوں میں اس کامیابی کو انتہائی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اسے آنے والے دور کی ٹیکنالوجی کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے اس تحقیق کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، توقع کی جا رہی ہے کہ کوانٹم سسٹمز کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی اور دنیا بھر کے محققین کو تجربات کے لیے زیادہ آسان اور قدرتی ذرائع میسر ہوں گے۔