Business
امریکی قومی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا
امریکہ کا قومی قرضہ تیز رفتار ادھار کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار چالیس ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر گیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کے مجموعی قرضے میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس پر مالیاتی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کا قومی قرضہ تیز رفتار سرکاری قرض لینے کے رجحان کے باعث تاریخ میں پہلی بار چالیس ٹریلین ڈالر کی انتہائی تشویشناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں اور خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران امریکی قرضوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، یہاں تک کہ محض ایک دہائی کے اندر ملک کا مجموعی قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ اس سنگین مالیاتی صورتحال نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر معاشی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ اس سے طویل المدتی اقتصادی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اس نئے سنگ میل کے عبور ہونے کے بعد مختلف سیاسی رہنماؤں اور معاشی شخصیات کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سابق اور موجودہ دونوں انتظامیہ کے دور میں اندھا دھند سرکاری اخراجات اور قرض لینے کی پالیسیوں نے اس بحران کو جنم دیا ہے۔ اس حوالے سے بعض سیاسی رہنماؤں نے یہاں تک خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت سخت فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والے چند برسوں میں سوشل سیکیورٹی اور دیگر اہم فلاحی ادارے دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں، جو کہ عام امریکی شہریوں کے لیے ایک بڑا معاشی دھماکہ ہوگا۔
اس کڑے وقت میں مالیاتی منڈیوں کی نظریں نئی اقتصادی ٹیم اور نامزد حکام پر لگی ہوئی ہیں جو اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ بانڈ مارکیٹ کے حالات اور بڑھتے ہوئے سود کے اخراجات حکومت کے لیے بجٹ بنانا مزید مشکل بناتے جا رہے ہیں۔ ماہرین معاشیات کا مطالبہ ہے کہ واشنگتن کے پالیسی سازوں کو اب سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملکی قرضوں کے حجم کو کم کرنے کے لیے ایک مؤثر اور پائیدار لائحہ عمل اپنانا ہوگا، بصورت دیگر اس کے عالمی معیشت پر بھی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔