LIVE
Loading Breaking News...

جان سُوینی کا ورلڈ کپ دورے کی مہنگی پروازوں کا دفاع

News Image
اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سُوینی نے جون کے مہینے میں امریکہ کے دوروں پر ہونے والے بھاری سرکاری اخراجات کی سختی سے حمایت کی ہے۔ حکومت نے اس دوران ورلڈ کپ کے دورے اور دیگر سرکاری امور پر مجموعی طور پر ایک لاکھ پاؤنڈ کے قریب رقم خرچ کی۔
اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سُوینی نے حال ہی میں امریکہ کے دورے کے دوران مہنگے سفری اخراجات پر ہونے والی تنقید کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ سرکاری دوروں کے دوران اسکاٹش حکومت نے تقریباً ایک لاکھ پاؤنڈ کی رقم خرچ کی، جس میں ورلڈ کپ کے سلسلے میں کی جانے والی پروازیں بھی شامل ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے ان اخراجات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ دورے اسکاٹ لینڈ کے مفاد میں اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کے لیے انتہائی ضروری تھے۔ تفصیلات کے مطابق، جون کے مہینے میں کیے گئے ان دوروں کے دوران اکیلے بزنس کلاس کی پروازوں پر 45 ہزار پاؤنڈز سے زائد کی رقم صرف کی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملکی معیشت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، سرکاری خزانے سے اتنی بڑی رقم خرچ کرنا عوام کے پیسوں کا درست استعمال نہیں۔ اس کے باوجود فرسٹ منسٹر جان سُوینی نے اپنے فیصلوں پر ڈٹے رہتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تمام اخراجات ضوابط کے مطابق کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد اسکاٹ لینڈ کے معاشی اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا تھا۔ امریکہ کا یہ سرکاری دورہ کئی اہم ملاقاتوں اور تقریبات پر مشتمل تھا، جہاں اسکاٹش حکومت کے نمائندوں نے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر مؤثر سفارتکاری کے لیے اعلیٰ سطحی وفود کے دورے ناگزیر ہوتے ہیں اور اس ضمن میں سفر کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، عوامی حلقوں اور میڈیا میں اس معاملے پر بحث تاحال جاری ہے کہ آیا اتنی بڑی رقوم کا اخراجات ایسے منصوبوں پر ہونا چاہیے یا نہیں۔ اس پورے معاملے نے ایک بار پھر سرکاری فنڈز کے استعمال اور شفافیت کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں سیاسی جماعتیں اب ان اخراجات کے مزید آڈٹ اور تفصیلات کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ عوام کے سامنے حقیقت واضح کی جا سکے کہ اس فنڈنگ سے صوبے کو کیا عملی فوائد حاصل ہوئے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر اسکاٹش پارلیمنٹ میں مزید گرما گرم بحث کی توقع کی جا رہی ہے۔