LIVE
Loading Breaking News...

بحیرہ احمر کا دفاع: سعودی عرب کی زیر قیادت نئے اتحاد کی تشکیل

News Image
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے خطے میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک دفاعی اتحاد تشکیل دیا ہے۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد یمن کے ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کا موثر دفاع کرنا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے بحیرہ احمر کی سلامتی اور تحفظ کے لیے ایک نئے دفاعی اتحاد کی تشکیل کے عمل کو خطے کی جغرافیائی سیاست میں ایک انتہائی اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے اس بحری راستے پر حالیہ کچھ عرصے کے دوران سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اس اتحاد کو تشکیل دینے کی ضرورت پیش آئی۔ عالمی تجارت کا ایک بہت بڑا حصہ اسی سمندری گزرگاہ کے ذریعے دنیا کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک پہنچتا ہے، لہذا اس راستے کا محفوظ رہنا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ اس نئے اتحاد کے قیام کا بنیادی اور اصل مقصد بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو یمن کے ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی طرف سے کیے جانے والے حملوں اور خطرات سے بچانا ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس بحری گزرگاہ کی حفاظت کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ اس حکمت عملی کے تحت تمام اتحادی ممالک مل کر اس بحری راستے پر گشت بڑھائیں گے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری جوابی کارروائی کی صلاحیت کو بہتر بنائیں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ دنیا بھر کے تاجروں اور شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ بحیرہ احمر کی سیکیورٹی براہ راست عالمی توانائی کی سپلائی اور سپلائی چین سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی رکاوٹ دنیا بھر میں تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں یہ اتحاد خطے میں امن اور استحکام کے قیام کی جانب ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگا، جو تجارتی سرگرمیوں کو بغیر کسی خوف کے جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔