Business
فیڈرل ریزرو منٹس سے پہلے ڈالر کی قیمت میں کمی، مالیاتی منڈیوں کا حال
امریکہ میں بانڈز کی فروخت کا دباؤ کم ہونے کے بعد امریکی ڈالر کی قدر میں بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمی دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کار اب فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں کے حوالے سے آنے والے منٹس کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کی قدر میں بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹریژری بانڈز کی فروخت کا سلسلہ رکنے اور مارکیٹ میں کچھ بہتری آنے کے بعد ڈالر کے دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سرمایہ کاروں کی اب تمام تر توجہ امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کے گزشتہ پالیسی اجلاس کے منٹس پر مرکوز ہے، جس سے آئندہ سود کی شرح کے بارے میں اہم اشارے مل سکتے ہیں۔
اس ہفتے کے دوران بانڈ مارکیٹ میں آنے والے اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے منٹس سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ آیا مرکزی بینک آنے والے مہینوں میں مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرے گا یا شرح سود میں کٹوتی کے حوالے سے کیا حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں دیگر اہم کرنسیوں کی پوزیشن نسبتاً بہتر ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشی اشاریے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ امریکی معیشت سست روی کا شکار ہو سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں پر پڑے گا۔ مارکیٹ کے شرکاء اب ہر اس بیان اور رپورٹ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں جو مانیٹری پالیسی کی سمت متعین کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے۔ آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت کا انحصار مکمل طور پر انھی اقتصادی اعداد و شمار اور مرکزی بینک کے بیانات پر ہو گا۔