Business
توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں
مملکت میں توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے اور اسے مالی طور پر مستحکم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سمیت اہم معاشی فیصلے کیے ہیں۔
وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ و توانائی علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ملک میں توانائی کے شعبے کی از سر نو تشکیل اور اسے پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کا بنیادی مقصد معیشت کو سہارا دینا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس پر عملدرآمد جاری ہے۔
حالیہ معاشی فیصلوں کے تناظر میں حکومت نے ریفائنریوں سے کامیاب مذاکرات کے بعد ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کا اعلان بھی کیا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں تیس سے बतीس روپے تک کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس سے ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں کو بڑا ریلیف ملا ہے۔ تاہم دوسری جانب عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور ملکی ضروریات کے پیش نظر پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل بھی کیا گیا ہے تاکہ معاشی توازن کو برقرار رکھا جا سکے اور گردشی قرضوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے میں یہ اصلاحات طویل المدتی بنیادوں پر ملکی معیشت کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوں گی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلا جائے تاکہ توانائی کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے اور صنعتی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ علی پرویز ملک نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلے بھی ناگزیر ہوتے ہیں لیکن حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی اقتصادی صورتحال بالخصوص خطے میں تجارتی اور مالیاتی امور کے حوالے سے بھی اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پاکستان ان تمام عالمی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی معاشی پالیسیوں کو حالات کے مطابق ڈھال رہا ہے۔ توانائی اور معیشت سے متعلق یہ اقدامات آنے والے دنوں میں ملکی معاشی منظر نامے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے اور ملک کو درپیش مالی مشکلات سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔