World
اقوام متحدہ کی مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں پر تشویش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں پر ہونے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس متنازعہ منصوبے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کے قیام کے حوالے سے جاری کردہ بیانات میں اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں پائیدار امن کے حصول کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے مزید واضح کیا کہ عالمی برادری بستیوں کی توسیع کو غیر قانونی سمجھتی ہے اور اس سے زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی جا रही ہے۔
اس پیشرفت کے ساتھ ہی بین الاقوامی سطح پر بھی ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے اس متنازعہ منصوبے کو ناقابل قبول اور تخریب کاری قرار دیا ہے۔ برطانوی حکام نے اس سلسلے میں اعلیٰ اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات خطے میں مزید بدامنی اور تناؤ کو جنم دے سکتے ہیں۔ یورپی سفارت کاروں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر اس پالیسی کو تبدیل نہ کیا گیا تو اسرائیل کے خلاف اضافی سفارتی یا معاشی پابندیوں کا نفاذ بھی زیر غور آ سکتا ہے۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کے سربراہ نے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی شہریوں پر ہونے والے پرتشدد حملوں اور زمینوں پر قبضے کی کارروائیوں کی بھی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور آبادکاروں کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو فوری طور پر روکیں۔ عالمی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اس وقت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بڑے انسانی بحران سے بچا جا سکے۔