World
امریکی حملے ایران پر: پاسداران انقلاب کا جوابی کارروائی کا اعلان
امریکا نے ایران میں قشم اور بوشہر سمیت کئی اہم مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں، جن کے بعد اردن نے اپنی حدود میں میزائلوں کو روکنے کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے اس جارحیت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی جب امریکا نے ایران کے اندر کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں کی زد میں قشم اور بوشہر سمیت مختلف مقامات آئے جہاں تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ان حملوں کے فورا بعد خطے میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں اور تمام متعلقہ ممالک نے فضائی حدود کی حفاظت کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال کے دوران اردن کی جانب سے یہ باضابطہ بیان سامنے آیا ہے کہ اس کی فضائی حدود کے قریب سے گزرنے والے میزائلوں کو کامیابی کے ساتھ intercepted کر لیا گیا ہے تاکہ ملکی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹا جا سکے۔ اردنی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سرحدوں کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور کسی کو بھی خطے کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب ایران کے طاقتور پاسداران انقلاب (IRGC) نے امریکا کے ان حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور ایران اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس اعلان کے بعد خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور عالمی رہنماؤں نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال کو سفارتی سطح پر جلد کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ تنازع پوری دنیا خصوصاً مشرق وسطیٰ کی معیشت اور امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کو کم کریں اور مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔