World
امریکی قومی قرضہ چالیس ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا
امریکی قومی قرضہ تاریخ میں پہلی بار چالیس ٹریلین ڈالر کی حد عبور کر گیا ہے۔ اس تاریخی اضافے نے معاشی ماہرین اور سیاسی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
امریکہ کا قومی قرضہ ملکی تاریخ میں پہلی بار چالیس ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر گیا ہے۔ اقتصادی ماہرین اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ ملک کی معاشی صورتحال پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ٹرمپ اور بائڈن کے ادوار میں اس قرض میں ریکارڈ اضافے نے امریکی معیشت کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قرضوں کا یہ پہاڑ نہ صرف وفاقی بجٹ کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کے عالمی معیشت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں اور پالیسی سازوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس تیزی سے بڑھتے ہوئے قرض پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ چند سالوں میں سوشل سیکیورٹی اور دیگر فلاحی پروگرام دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مختلف انتظامیہ کے دوران بے قابو اخراجات اور مالیاتی خسارے کی وجہ سے قومی قرضے میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی اس خبر کے بعد ہلچل مچ گئی ہے اور سرمایہ کار امریکہ کی طویل المدتی مالیاتی پالیسیوں کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ تلے دبنے کے بعد اب امریکی حکومت کو ٹیکسوں اور اخراجات میں اصلاحات کے حوالے سے انتہائی سخت اور ناگزیر فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ ملکی معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔