LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں ٹیکس بیس کا تحفظ اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پالیسی سازی

News Image
بھارتی انکم ٹیکس حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو بین الاقوامی ٹیکس قوانین میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے دوران اپنے ٹیکس بیس کا تحفظ کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پالیسی میں استحکام اور شفافیت فراہم کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
نئی دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی انکم ٹیکس محکمے کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو اپنے جائز ٹیکس بیس کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سرمایہ کاروں کو پالیسی کے استحکام اور پیشگوئی کے قابل ماحول فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ٹیکس کے قوانین میں تیزی سے بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن کے پیش نظر معاشی پالیسیوں میں توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ عالمی معیشت میں بدلتی ہوئی حرکیات اور ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بھارت میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو فروغ دینے کے لیے شفاف اور مستحکم ٹیکس نظام کی اہمیت پر زور دیا جا रहा ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے اور وہ طویل مدت کے لیے ملک میں سرمایہ کاری جاری رکھ سکیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی ٹیکس اصلاحات جیسے کہ او ای سی ڈی کے عالمی ٹیکس فریم ورک کے نفاذ کے بعد ترقی پذیر ممالک کو اپنے ٹیکس حقوق کے تحفظ میں کئی قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بھارت ان عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں اپنے مالیاتی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس کے ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے پیچیدگیوں کو کم کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں گی تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔