LIVE
Loading Breaking News...

غزه اور جنوبی افریقی جامعات: عطیات اور مالی دباؤ کا تجزیه

News Image
جنوبی افریقہ کی یونیورسٹیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مالی عطیات کے ذریعے سیاسی تابعداری مسلط کرنے کی کوششوں کو مسترد کریں۔ غزه کے معاملے پر مال و دولت کے ذریعے سچائی کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
جنوبی افریقہ کی جامعات کے حلقوں میں اس بات پر شدید بحث جاری ہے کہ تعلیمی اداروں کو عطیہ دینے والے بعض دولت مند افراد اور ادارے اپنی مالی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے طلباء اور اساتذہ کو فلسطین اور غزه کے معاملے پر خاموش کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی آزادی اور اظہارِ رائے کی روایت کو کسی بھی قیمت پر مالی مفادات کے تابع نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے درس گاہوں کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ حالیہ مباحثوں کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں کو ایسے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے جو انہیں انسانی حقوق کے عالمی مسائل پر بات کرنے سے روکتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی تاریخ خود مظلومیت اور نسلی امتیاز کے خلاف طویل جدوجہد سے عبارت ہے، اس لیے وہاں کے تعلیمی اداروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں بالخصوص غزه کی صورتحال پر منصفانہ مؤقف اختیار کریں۔ تعلیمی ماہرین اور فیکلٹی ممبران کا یہ بھی ماننا ہے کہ عطیات دینے والوں کی طرف سے سیاسی مطالبات پیش کرنا تعلیمی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یونیورسٹیز کو چاہیے کہ وہ شفافیت کو فروغ دیں اور اپنے مالیاتی ذرائع کو اس طرح ترتیب دیں کہ کسی بھی بیرونی قوت کو تعلیمی نصاب یا بحث و مباحثے کے ماحول کو متاثر کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر اس عالمی بحث کو جنم دیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کارپوریٹ اور سیاسی اثر و رسوخ کی حد کیا ہونی چاہیے۔ جنوبی افریقہ کی جامعات کے لیے یہ ایک اہم امتحان ہے کہ آیا وہ مال و دولت کی چکاچوند میں اپنے بنیادی اخلاقی اصولوں پر سمجھوتہ کرتی ہیں یا پھر فکری آزادی اور حق گوئی کا پرچم بلند رکھتی ہیں۔