Business
امریکی اسٹاک فیوچرز اور ٹریژری ییلڈز کی تازہ ترین صورتحال
امریکی ٹریژری ییلڈز میں 19 سالہ بلند ترین سطح سے کمی کے بعد بدھ کے روز اسٹاک فیوچرز بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہے۔ اس صورتحال سے عالمی بانڈز میں جاری حالیہ مندی کے بعد سرمایہ کاروں کو کچھ ریلیف ملا ہے۔
بدھ کی صبح امریکی اسٹاک فیوچرز بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہے کیونکہ سرکاری بانڈز کی ییلڈز (Treasury Yields) میں رواں ہفتے کے دوران ریکارڈ کی گئی کثیر سالہ بلند ترین سطح سے کچھ کمی واقع ہوئی۔ اس معمولی بہتری نے عالمی سطح پر بانڈز کی فروخت کے دباؤ اور مارکیٹ میں جاری ہلچل کے بعد سرمایہ کاروں کو کچھ حد تک سکون کا سانس لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، طویل مدتی بانڈز پر منافع کی شرح میں حالیہ کمی اس بات کی عکاس ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء اب سودی شرح کے آئندہ فیصلوں اور معاشی اشاریوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ پر سرمایہ کار اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا یہ استحکام برقرار رہ پائے گا یا عالمی معیشت کو مزید اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بانڈ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر اسٹاکس اور دیگر رسکی اثاثوں پر پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ فی الوقت، امریکی معیشت سے متعلق آنے والے نئے اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے ممکنہ اقدامات پر تمام مارکیٹ کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں تاکہ آئندہ کے مالیاتی رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔