LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے اسٹاکس میں سرمایہ کاری، خوردہ سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ

News Image
خوردہ سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے سے مکمل طور پر منہ نہیں موڑا ہے بلکہ وہ اب زیادہ چاق و چوبند اور محتاط ہو گئے ہیں۔ مارکیٹ کے نشیب و فراز کے پیش نظر سرمایہ کاروں نے خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دی ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے وابستہ کاروبار میں خوردہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی اب بھی کسی حد تک برقرار ہے، تاہم وہ اس سیزن میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محتاط رویہ اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ موسمِ خزاں کے قریب آتے ہی مارکیٹ کے حالات کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں نے اندھا دھند سرمایہ کاری کے بجائے اب سلیکٹو اپروچ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق، سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پوزیشنز کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ وہ اپنے اثاثوں کے تحفظ کے لیے مختلف مالیاتی حربے استعمال کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پٹ آپشنز (put options) اور انورس ای ٹی ایفز (inverse ETFs) کا استعمال بڑھ گیا ہے، جس کی مدد سے مارکیٹ میں گراوٹ کی صورت میں اپنے سرمائے کو محفوظ بنایا جا سکے، جبکہ ساتھ ہی وہ طویل مدتی ترقی کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں۔ ماہرینِ مالیات کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران مصنوعی ذہانت کے حصص میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے بعد اب سرمایہ کار کسی بھی ناگہانی مندی یا مارکیٹ کے جھٹکے سے گھبرانے کے بجائے پہلے سے زیادہ اسٹریٹجک انداز میں سوچ رہے ہیں۔ وہ منافع کمانے کے موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے پورٹ فولیو کو گرتے ہوئے بازار سے بچانے کے لیے حفاظتی حصار بھی قائم کر رہے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے رجحان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خوردہ سرمایہ کاروں کا اعتمادی گراف مکمل طور پر گرا نہیں ہے، البتہ ان کی حکمتِ عملی میں پختگی اور ہوشیاری آ گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ سرمایہ کاروں کے اس محتاط مگر پرامید رویے کے ساتھ کس طرح آگے بڑھتا ہے اور مارکیٹ کی مجموعی سمت کیا رہتی ہے۔