LIVE
Loading Breaking News...

این سی ای آر ٹی نے پولیٹیکل سائنس کی نصابی کتابوں کی ٹیم تشکیل دیدی

News Image
نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے گیارہویں اور بارہویں جماعت کے سیاسیات کے نصاب کی تشکیل نو کے لیے ایک نئی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئی ٹیم کا مقصد تعلیمی مواد میں بھارتی ثقافتی جڑوں اور روایتی علمی نظام کو فروغ دینا ہے جبکہ کم از کم چار ارکان کے روابط آر ایس ایس سے بتائے جاتے ہیں۔
نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے گیارہویں اور بارہویں جماعت کی سیاسیات (پولیٹیکل سائنس) کی نصابی کتابوں کی تشکیلِ نو کے لیے ایک نئی ٹیم کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد نصاب میں بھارتی علمی نظام (انڈین نالج سسٹمز) اور ثقافتی جڑوں کو مربوط کرنا ہے تاکہ طلبہ کو ملکی روایات سے قریب تر کیا جا سکے۔ کونسل کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کو تعلیمی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ نئی تشکیل دی جانے والی اس کمیٹی اور نصابی ٹیم کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، کم از کم چار ایسے ارکان کو شامل کیا گیا ہے جن کے ماضی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) یا اس سے وابستہ تنظیموں کے ساتھ دستاویزی روابط رہے ہیں۔ اس شمولیت کے بعد سے تعلیمی اور سیاسی میدان میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں مختلف مکاتبِ فکر کی جانب سے نصاب میں اس طرح کی تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ این سی ای آر ٹی کا مؤقف ہے کہ نصاب کو جدید تقاضوں کے ساتھ ساتھ ملک کی تاریخی اور ثقافتی میراث سے ہم آہنگ کرنا موجودہ تعلیمی پالیسی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ نصابی کتابوں میں تبدیلی کا یہ عمل تعلیمی مواد کو زیادہ جامع، مقامی تناظر کے حامل اور زمینی حقائق کے قریب تر بنائے گا، جس سے طلبہ کو اپنی تہذیب و تمدن کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب، ناقدین کا کہنا ہے کہ نصاب میں اس قسم کی تبدیلیاں تعلیمی نظام کے سیکولر اور کثیر جہتی تناظر کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس سارے معاملے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ سیاسیات کا یہ نیا نصاب آنے والے تعلیمی سال میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے کس نوعیت کے نئے مباحث اور تعلیمی تجربات لے کر آتا ہے۔