LIVE
Loading Breaking News...

آئرلینڈ میں مفت تعلیم کی حقیقت اور اسکول کے اخراجات

News Image
آئرلینڈ میں سیکنڈری اسکول جانے والے ایک بچے پر سالانہ اخراجات اٹھائیس سو یورو سے تجاوز کر سکتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ، یونیفارم اور اسکول کی دیگر سرگرمیوں کے باعث مفت تعلیم کا دعویٰ اکثر والدین کے لیے مالی بوجھ بن جاتا ہے۔
آئرلینڈ میں سرکاری سطح پر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک میں بنیادی اور ثانوی تعلیم مکمل طور پر مفت فراہم کی جاتی ہے، تاہم ایک حالیہ تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نظام کے پیچھے کئی چھپے ہوئے اخراجات موجود ہیں۔ جب ایک بچے کو سیکنڈری اسکول بھیجا جاتا ہے تو والدین کو صرف ٹیوشن یا فیس کی حد تک چھوٹ ملتی ہے، لیکن روزمرہ کے دیگر مصارف جیسے کہ ٹرانسپورٹ، لباس، دوپہر کا کھانا اور اسکول کی نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں اسکول کے بجٹ کو کافی بڑھا دیتی ہیں۔ ان تمام اضافی اخراجات کا تخمینہ لگایا جائے تو سالانہ فی بچہ خرچہ اٹھائیس سو یورو سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے شدید مالی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ والدین کے مطابق یونیفارم کی خریداری، کتابیں، اسکول کے دورے اور ڈیجیٹل آلات (جیسے لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ جو آج کل کی جدید تعلیم کی ضرورت بن چکے ہیں) کا خرچہ ہر سال بڑھتا جا رہا ہے۔ اسکولوں کی طرف سے فنڈز کی کمی یا سرکاری امداد ناکافی ہونے کی وجہ سے اکثر اسکولوں کو مختلف سرگرمیوں کے لیے والدین سے براہ راست تعاون یا چندہ مانگنا پڑتا ہے، جس سے عام خاندانوں پر بوجھ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ ماہرین تعلیم اور سماجی تنظیموں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسکولوں کی مالی معاونت کو بہتر بنائے تاکہ مفت تعلیم کے دعوے حقیقت کا روپ دھار سکیں۔ بچوں کے حقوق کے ادارے بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تعلیم کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی جائیں تاکہ کسی بھی بچے کو مالی مجبوریوں کی وجہ سے معیاری تعلیمی سرگرمیوں سے محروم نہ رہنا پڑے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ چھپے ہوئے اخراجات آئرلینڈ کے تعلیمی نظام میں عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔