Business
جاپانی اسٹاک مارکیٹ کی مندی، ٹیکنالوجی شیئرز میں بڑی گراوٹ
وال اسٹریٹ میں مصنوعی ذہانت اور چپ بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز فروخت ہونے کے بعد جاپانی مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ عالمی سطح پر بانڈ ییلڈ میں اضافے اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔
ٹوکیو: جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا جہاں ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر سیکٹر کے شیئرز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ گزشتہ روز وال اسٹریٹ پر مصنوعی ذہانت (AI) سے وابستہ چپ ساز کمپنیوں کے شیئرز کی بھاری فروخت اور منفی رجحان تھا جس کے اثرات ایشیائی مارکیٹوں پر بھی واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ سرمایہ کاروں میں اس صورتحال کے بعد بے یقینی کی فضا پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی سیکٹر میں حالیہ تیزی کے بعد منافع کی وصولی کا عمل شروع ہوا ہے جس سے ان شیئرز کی قیمتوں میں دباؤ بڑھ گیا ہے۔ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری سے وابستہ بڑی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی کے باعث مجموعی انڈیکس بھی نیچے آ گیا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تیزی سے گرتی ہوئی مارکیٹ نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ عالمی سطح پر اقتصادی اشاریے بھی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کے علاوہ دیگر اہم صنعتی شعبوں میں بھی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جس سے مارکیٹ کی بحالی کی کوششیں فی الحال بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر بانڈ ییلڈ میں اضافہ اور تیل کی قیمتوں میں تیزی بھی سرمایہ کاروں کے جذبات پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل ہیں۔ جاپان کے 10 سالہ سرکاری بانڈز کی ییلڈ میں اضافے نے مالیاتی مارکیٹوں میں ہلچل مچا دی ہے جبکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مہنگائی کے خدشات ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں۔ ان تمام بیرونی اور داخلی معاشی عوامل نے جاپانی سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے اور قلیل مدت میں مارکیٹ کے تیزی سے سنبھلنے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر بانڈز کی مارکیٹ اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا، اس وقت تک ٹیکنالوجی اور دیگر اہم سیکٹرز میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے بھی معاشی حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے، تاہم فی الحال سرمایہ کار کسی بھی بڑے خطرے سے بچنے کے لیے اپنے اثاثے محفوظ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔