World
سلمان رشدی حملہ کیس: حملہ آور پر دہشت گردی کے الزامات ثابت
امریکی عدالت نے سنہ 2022 میں ہونے والے حملے کے سلسلے میں ملزم کو دہشت گردی کے اضافی الزامات کے تحت مجرم قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پچیس سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔
امریکی عدالت نے معروف مصنف سلمان رشدی پر سنہ 2022 کے دوران قاتلانہ حملہ کرنے والے شخص کو دہشت گردی سے جڑے اضافی الزامات کے تحت مجرم قرار دے دیا ہے۔ اس نئے عدالتی فیصلے کے بعد ملزم کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جو پہلے ہی اس دلخراش واقعے کی پاداش میں پچیس سال قید کی سزا بھگت رہا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے ثابت کیا کہ یہ حملہ محض ایک انفرادی فعل نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے گہرے محرکات کارفرما تھے۔
یاد رہے کہ اگست 2022 میں نیویارک کی ایک ادبی تقریب کے دوران سلمان رشدی پر اس وقت چاقو سے حملہ کیا گیا جب وہ اسٹیج پر موجود تھے۔ اس وحشیانہ حملے کے نتیجے میں برطانوی نژاد مصنف شدید زخمی ہو گئے تھے جنہیں طویل طبی امداد اور آپریشنز سے گزرنا پڑا۔ اس حملے کے بعد عالمی سطح پر ادیبوں، دانشوروں اور سربراہان مملکت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور اظہارِ رائے کی آزادی پر اس حملے کو ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا تھا۔
امریکہ کی وفاقی عدالت میں چلنے والے اس مقدمے کے دوران جیوری نے تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جس کے بعد ملزم کو دہشت گردی کی دفعات کے تحت بھی قصوروار ٹھہرایا گیا۔ اس حالیہ پیش رفت سے قانونی ماہرین کا یہ مؤقف مزید تقویت پا گیا ہے کہ ایسے پرتشدد واقعات کے خلاف ریاستیں سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں گی تاکہ معاشرے میں انتہا پسندانہ سوچ کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔