Business
چینی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ، سیمی کنڈکٹر اسٹاکس میں مندی
چین کی اسٹاک مارکیٹ میں سیمی کنڈکٹر اور چپ ساز کمپنیوں کی قیادت میں حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ حکومت کے بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ نے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
چین کی حصص بازار میں آج شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا جہاں معروف سیمی کنڈکٹر اور چپ تیار کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں بڑی حد تک فروخت کا دباؤ رہا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی وصولی اور مارکیٹ کے مجموعی حالات کی وجہ سے انڈیکس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس نے ایشیائی مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کیا۔ اس فروخت کے رجحان نے مارکیٹ کے تمام اہم شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق، یہ گراوٹ کئی اہم معاشی عوامل کا نتیجہ ہے جن میں حکومتی بانڈز کی پیداوار میں اضافہ، مہنگائی کا برقرار رہنا، اور بھاری مالیاتی اخراجات شامل ہیں۔ ان تمام پہلوؤں نے مل کر قرض لینے کے اخراجات کو بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے اور وہ نئی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ اس کے علاوہ، بڑے پیمانے پر قرضوں کا اجرا بھی معاشی بحالی کے راستے میں ایک بڑا سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ علاقائی اور عالمی سطح پر پائی جانے والی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور توانائی کی سپلائی میں تعطل کے خدشات نے بھی کاروباری فضائی کو متاثر کیا ہے۔ دنیا بھر میں توانائی کے بحران کے خطرات اور سپلائی چین کے مسائل نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ان معاشی اور جغرافیائی مسائل کا کوئی پائیدار حل نہیں نکلتا، چینی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے معیشت کو سہارا دینے کے لیے مزید اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کیا جا سکے اور سرمایہ کاروں کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔