Pakistan
سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کیخلاف حکومتی اپیل واپس کر دی
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کیخلاف دائر حکومتی نظرثانی اپیل اعتراض لگا کر واپس کر دی ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے کے لیے نجی اسپتال یعنی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ حکومتی نظرثانی اپیل اعتراض عائد کرتے ہوئے واپس کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ قانونی کارروائی عدالتی دفتری اعتراضات کے بعد عمل میں آئی ہے جس کے بعد ملکی سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ قانونی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قانون کی رو سے قیدیوں کے علاج معالجے کے معاملے میں ضابطے واضح ہیں تاہم عدالتی احکامات اور ان پر عملدرآمد کے معاملے پر قانونی ماہرین کی آراء بھی سامنے آرہی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اعتراض عائد کیے جانے کے بعد حکومت نے اپنی نظرثانی اپیل واپس لے لی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے اس پیشرفت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کے طبی ٹیسٹ اور علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قیدی کی صحت اور علاج معالجے کا حق بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے اور اس میں کسی قسم کی سیاسی تاخیر یا لیت و لعل سے کام نہیں لیا جانا چاہیے۔
اس سارے معاملے پر وفاقی حکومت اور حکومتی وزراء کی جانب سے بھی بیانات سامنے آئے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کا موقف رہا ہے کہ کسی بھی قیدی کا نجی اسپتال میں علاج اور اس کے قانونی اور مالی طریقہ کار اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں جن پر قانون کے مطابق ہی عمل کیا جانا چاہیے۔ تاہم تازہ ترین عدالتی کارروائی کے بعد معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور سیاسی حلقے اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے اگلا قانونی یا انتظامی قدم کیا اٹھایا جاتا ہے۔