World
ٹرمپ کی ایران دھمکی: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں کو نئی اقتصادی دھمکیوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ تہران نے ٹرمپ کے اس اقدام کو اقتصادی جنگ قرار دیتے ہوئے ناکام بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت تیزی دیکھنے میں آئی جب امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اس کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف سخت اقتصادی اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور رس رسد کے خدشات کے پیش نظر خام تیل کی قیمتیں تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے شراکت داروں کو بھی امریکی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس تازہ بیان کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کے اندر شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ کا تنازع مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ دوسری جانب تہران نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ان دھمکیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی یہ نام نہاد 'اقتصادی جنگ' اپنے مقاصد میں پوری طرح ناکام ہوگی اور ایران اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے بعد اب اقتصادی دباؤ کی یہ نئی لہر عالمی معیشت اور خاص طور پر توانائی کی سپلائی لائنوں کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہی ہے، جس پر دنیا بھر کے معاشی ماہرین اور حکومتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔