LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کی فیڈرل ریزرو اور شرح سود پر تنقید

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کی موجودہ شرح سود کی پالیسی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر ضروری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس وقت بہت کم شرح سود ادا کرنی چاہئے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی اور شرح سود پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر موزوں قرار دیا ہے۔ سی این بی سی ڈیلی اوپن کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ امریکہ کو موجودہ حالات میں بہت کم شرح سود ادا کرنی چاہئے۔ ان کا موقف ہے کہ موجودہ اقتصادی شرحیں ملکی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور اس سے ملکی معیشت پر غیر ضروری بوجھ پڑ رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے مرکزی بینک پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ وہ شرح سود میں کمی لائے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب بھی وہ یہ سنتے ہیں کہ ملک کی معیشت اچھا پرفارم کر رہی ہے تو وہ اسے تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ معاشی بہتری کے دعوؤں کے باوجود عام شہریوں اور کاروباروں کو مہنگے قرضوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو کہ فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ کومرز بینک اور ایف ایکس اسٹریٹ کی رپورٹس کے مطابق فیڈرل ریزرو کے فیصلوں پر سیاسی دباؤ اور شرح سود کے خطرات آنے والے دنوں میں مالیاتی مارکیٹوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سرمایہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا مرکزی بینک سیاسی دباؤ کے آگے جھکتے ہوئے شرح سود میں کمی کا کوئی اشارہ دیتا ہے یا پھر وہ اپنی موجودہ سخت پالیسی پر ہی قائم رہتا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا یہ بھی مانना ہے کہ ٹرمپ کے ان بیانات سے ڈالر کی قدر اور عالمی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے رجحانات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ فیڈرل ریزرو نے ہمیشہ اپنے فیصلوں کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم موجودہ صدر کی کھل کر تنقید نے مرکزی بینک کی خودمختاری پر ایک بار پھر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ فیڈرل ریزرو کے عہدیدار اس دباؤ کا کیا جواب دیتے ہیں اور اقتصادی اشاریے اس صورتحال میں کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔