LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان میں دہشت گردی: ڈی ایس پی شہید، چھ مزدوروں کی لاشیں برآمد

News Image
صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور تشدد کے دلخراش واقعات میں ایک ڈی ایس پی شہید جبکہ اغوا کے بعد قتل کیے جانے والے مزدوروں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ اعلیٰ حکومتی شخصیات نے ان پرتشدد کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
صوبہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے جہاں دہشت گردوں اور تخریب کاروں نے سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بارکھان کے علاقے میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے دوران ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) مرید بگٹی فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ وہ علاقے میں امن کے قیام اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل تھے، جن کی اس عظیم قربانی پر اعلیٰ سول اور عسکری قیادت نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر رہنماؤں نے شہید ڈی ایس پی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ آخری حد تک جاری رہے گی۔ دوسری جانب ضلع کیچ، خضدار اور تبت کے علاقوں سے بھی دل دہلا دینے والی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے مزدوروں کو اغوا کیا گیا اور بعد ازاں ان کی گولیاں چھلنی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ان تمام ناگہانی اور بہیمانہ کارروائیوں نے پورے ملک بالخصوص صوبے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ ادھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور دیگر صوبائی حکام نے بھی ان پرتشدد کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کالعدم تنظیموں کی جانب سے چینی منصوبوں اور غیر ملکی باشندوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد سکیورٹی اداروں کو صوبے بھر میں الرٹ کر دیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے بیرونی عناصر اور ان کے آلہ کار سرگرم ہیں، جن کے خلاف ریاست آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں مشترکہ طور پر سکیورٹی کے معماری نظام کا از سر نو جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ایسے سانحات کو مستقبل میں روکا جا سکے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔