World
سکاٹ لینڈ میں بچوں کی نازیبا تصاویر کا سب سے بڑا ذخیرہ برآمد
سکاٹ لینڈ کی پولیس نے ایک کارروائی کے دوران 83 سالہ پنشنر کے قبضے سے بچوں کی نازیبا تصاویر کا بہت بڑا ذخیرہ برآمد کیا ہے۔ اسکول کے سابق ملازم اور پنشنر ایلن میک فیرسن کے پاس سے دو ملین سے زائد تصاویر ملیں جنہیں اب تک کا سب سے بڑا ذخیرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سکاٹ لینڈ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک انتہائی تشویشناک اور ہلا دینے والے مقدمے کا پردہ فاش کیا ہے، جہاں ایک 83 سالہ پنشنر کے گھر سے بچوں کی نازیبا تصاویر کا اب تک کا سب سے بڑا ذخیرہ برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی سٹینوہموئیر کے علاقے میں عمل میں لائی گئی جہاں ملزم مقیم تھا۔ اس کارروائی کے دوران پولیس نے لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی مواد ضبط کیا ہے جو بچوں کے استحصال پر مبنی تصاویر پر مشتمل ہے۔
پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملزم کی شناخت ایلن میک فیرسن کے نام سے ہوئی ہے جو کہ عمر رسیدہ پنشنر ہیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق میک فیرسن کے پاس سے ملنے والی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز کی تعداد تقریباً دو ملین کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ سکاٹ لینڈ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پولیس نے کسی ایک فرد کے قبضے سے اتنی بڑی مقدار میں مجرمانہ مواد برآمد کیا ہے۔ اس لرزہ خیز انکشاف نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے اور عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات اور ڈیجیٹل فارنزک تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مواد انتہائی منظم طریقے سے کمپیوٹرز اور ڈیجیٹل سٹوریج ڈیوائسز میں محفوظ کیا گیا تھا۔ ماہرین اور تفتیشی ٹیمیں اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا یہ مواد صرف ذاتی استعمال کے لیے تھا یا اسے آن لائن نیٹ ورکس کے ذریعے آگے بھی شیئر کیا جاتا رہا ہے۔ پولیس اس گھناؤنے فعل میں ملوث دیگر ممکنہ کرداروں اور نیٹ ورکس کا بھی سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اس گھناؤنے کاروبار کی جڑوں تک پہنچا جا سکے۔
ملزم کو عدالت میں پیش کیے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے جہاں اس پر بچوں کے حقوق کی پامالی اور غیر قانونی مواد کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور مقامی کمیونٹی نے اس کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے بھیانک جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔