World
بنگلہ دیش: نوجوانوں کے روزگار کے مطالبات اور توانائی بحران پر حکومت مشکلات کا شکار
بنگلہ دیش میں وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت کو اقتدار سنبھالے چھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، اس دوران ملک میں شدید توانائی کے بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ ملک کے نوجوان بے روزگاری کے خاتمے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مسلسل احتجاجی مطالبات کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش میں وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت کو اقتدار سنبھالے ابھی صرف چھ ماہ ہی ہوئے ہیں کہ ملک کو متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس وقت ملک کے اندر توانائی کا شدید بحران اپنے عروج پر ہے جس کی وجہ سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی اجیرن بن گئی ہے۔ بجلی کی طویل بندش اور گیس کی قلت نے کاروباری طبقے کو بھی پریشان کر رکھا ہے جس کے اثرات براہ راست معیشت پر پڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب ملک کے نوجوان طبقے کی طرف سے روزگار کے حصول کے لیے حکومت پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ ملک میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ بے روزگاری کی شرح میں کمی لائی جا سکے اور فارغ التحصیل نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔ پچھلے کچھ عرصے میں طلبہ اور نوجوان تنظیموں نے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی ہیں اور حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے، جس سے سیاسی ماحول بھی گرم ہو گیا ہے۔
حکومت کے سامنے اس وقت مہنگائی پر قابو پانا بھی ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ عوام امید کر رہے تھے کہ نئی قیادت کے آنے سے حالات میں بہتری آئے گی، لیکن عالمی مالیاتی چیلنجز اور اندرونی انتظامی مشکلات کی وجہ سے حالات سنبھالنا حکومت کے لیے کافی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان کی انتظامیہ اب اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر اقتصادی اصلاحات نافذ کی جائیں اور توانائی کے شعبے میں بہتری لائی جائے تاکہ معیشت کو استحکام مل سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے جلد ہی نوجوانوں کے مطالبات پر توجہ نہ دی اور مہنگائی و توانائی کے بحران پر قابو نہ پایا، تو آنے والے دنوں میں سیاسی اور سماجی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔