World
ہند رجب قتل کیس: اسرائیل کی تحقیقات اور انصاف کی امیدیں
اسرائیل نے تقریباً دو سال کی تردید کے بعد بالآخر پانچ سالہ ہند رجب کی کار پر فائرنگ کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ تاہم مقتولہ کا خاندان اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس تحقیقات سے کسی بھی قسم کے منصفانہ نتائج کی توقع نہیں رکھ رہے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کے دوران شہید ہونے والی پانچ سالہ معصوم بچی ہند رجب کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ طویل دو سال تک اس واقعہ سے مکمل انکار یا لاعلمی ظاہر کرنے کے بعد، اب اسرائیلی حکام نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ ان کی فوج نے ہند رجب کی سواری پر فائرنگ کی تھی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب یہ معصوم بچی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ جنگ زدہ علاقے سے محفوظ مقام کی طرف منتقل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس المناک واقعے نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے اداروں اور عام شہریوں کو شدید صدمے سے دوچار کیا تھا، کیونکہ فائرنگ کے دوران بچی کی مدد کے لیے بھیجی جانے والی ریسکیو ٹیم کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے اس تاخیر سے کیے گئے اعتراف اور باضابطہ تحقیقات کے اعلان کو اگرچہ ایک پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ہند رجب کا خاندان اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پورے عمل پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ دو سال تک حقائق کو چھپانے کی کوشش کی گئی اور اب کی جانے والی نام نہاد تحقیقات صرف عالمی دباؤ کو کم کرنے کی ایک چال ہے۔ خاندان اور دنیا بھر کے مبصرین کا خیال ہے کہ اس تحقیقات کے نتیجے میں کسی بھی اسرائیلی اہلکار کو حقیقی معنوں میں کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا اور نہ ہی متاثرہ خاندان کو کوئی انصاف مل سکے گا۔
اس واقعے نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران عام شہریوں بالخصوص بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ہند رجب اور اس جیسے دیگر ہزاروں معصوم بچوں کے قتل کی آزادانہ اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کا احتساب ممکن بنایا جا سکے۔ تاحال، اسرائیلی تحقیقات کے نتائج اور اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے، اور انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔