World
اسرائیل کی مغربی دنیا میں حمایت کے حصول کے لیے اسلام فوبیا کی حکمت عملی
اسرائیل کی موجودہ حکومت مغرب میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے اسلام دشمنی اور خوف کا استعمال کر رہی ہے۔ نیتن یاہو کی انتظامیہ مغربی دائیں بازو کے حلقوں کو اپنے حق میں کرنے کے لیے اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات اور تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی موجودہ حکومت مغربی دنیا میں اپنی سیاسی اور سفارتی ساکھ کو بچانے کے لیے اسلام فوبیا یعنی اسلام دشمنی کے جذبات کو ہوا دے رہی ہے۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی انتظامیہ جان بوجھ کر ایسے بیانیے تشکیل دے رہی ہے جو مغربی ممالک میں مسلم مخالف جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں کے دائیں بازو کے سیاسی حلقوں اور جماعتوں کو اپنی طرف راغب کر سکیں۔ مغربی ممالک میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اور گروہ پہلے ہی مختلف مسائل پر تارکین وطن اور مسلمانوں کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں، اور اسرائیل کی حالیہ پالیسیاں اس سوچ کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے یہ حکمت عملی اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے جب دنیا بھر میں اس کے اقدامات پر تنقید کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں۔ مغربی ممالک کے اندرونی سیاسی منظر نامے میں دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیلی حکومت چاہتی ہے کہ وہ اپنے حامیوں کا دائرہ کار وسیع کرے اور پالیسی سازوں پر دباؤ برقرار رکھے۔ ماہرین کے نزدیک یہ رجحان نہ صرف بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ مغربی معاشروں کے اندر بھی مذہبی اور ثقافتی خلیج کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ اسلام فوبیا کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے سے اسرائیل کو وقتی طور پر کچھ مغربی حلقوں میں حمایت حاصل ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے خطے اور دنیا بھر پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس صورتحال نے عالمی برادری بالخصوص انسانی حقوق کے علمبرداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اس سے دنیا بھر میں عدم برداشت اور منافرت کے فروغ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔