LIVE
Loading Breaking News...

قومی اسمبلی میں فوجی اور جوہری کمانڈ بلز کی منظوری، اپوزیشن کا واک آؤٹ

News Image
قومی اسمبلی کے اجلاس میں فوج اور جوہری کمان کے ڈھانچے سے متعلق دو اہم بلز کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے۔ اس موقع پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا جبکہ حکومتی اتحادی جماعت پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قانون سازی کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اسلام آباد میں جمعرات کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی اور مخالفت کے باوجود فوج اور جوہری کمان کے ڈھانچے سے متعلق دو اہم بلز کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں دو بل پیش کیے جن میں ڈیفنس فورسز ایکٹ 2010 اور ترمیمی نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 شامل ہیں۔ ان بلوں کی پیشکش کے دوران اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، جبکہ حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوں کو پیش کرنے کے طریقہ کار پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ اجلاس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ان بلوں کی منظوری دی گئی تھی۔ وزیراعظم خود بھی بل پیش کیے جانے کے وقت قومی اسمبلی میں موجود تھے اور قانون سازی کی منظوری کے بعد ایوان سے چلے گئے۔ بعد ازاں اجلاس کو جمعہ کی صبح گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ بل ستائیسویں آئینی ترمیم کے تسلسل میں تیار کیے گئے ہیں۔ ڈیفنس فورسز ایکٹ کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹر کے منصب سے متعلق انتظامی امور کا تعین کرنا ہے۔ جبکہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کو ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد ایک لازمی عمل قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں منظور کی جانے والی ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت پاکستان کے اعلیٰ دفاعی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں چیئرمین جوائنٹ چیফস آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا تھا۔ قانون سازی کے اس عمل سے قبل قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے وقفہ سوالات کے دوران وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز کی غیر موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔ اسپیکر نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری اور دیگر حکام کو طلب کیا اور تنبیہ کی کہ اگر مستقبل میں حکام غیر حاضر رہے تو متعلقہ وزیر اور افسر کے خلاف تحریک استحقاق لائی جائے گی۔ اسپیکر کی ہدایت پر ایوان کی کارروائی پندرہ منٹ کے لیے معطل بھی کی گئی تاکہ متعلقہ حکام پہنچ سکیں۔