LIVE
Loading Breaking News...

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم سے ڈی میرٹ پوائنٹ ختم، آئی سی سی کا فیصلہ

News Image
بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی اپیل پر لاہور کے قذافی اسٹیڈیم سے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ واپس لے لیا ہے۔ اپیل پینل نے میچ فوٹیج اور رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا جس کے بعد اسٹیڈیم کا ریکارڈ کلئیر ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے جمعرات کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم سے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ڈی میرٹ پوائنٹ رواں برس جون میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے تیسرے مردوں کے ایک روزہ میچ کے بعد پچ کو غیر تسلی بخش قرار دیئے جانے کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ پی سی بی نے اس فیصلے کے خلاف باضابطہ اپیل دائر کی تھی جس پر غور کرتے ہوئے آئی سی سی کے اپیل پینل نے یہ اقدام اٹھایا۔ آئی سی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، اپیل پینل نے میچ کی فوٹیج، میچ ریفریز کی رپورٹس اور دونوں ٹیموں کے کپتانوں کے سرکاری تبصروں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پینل کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ لاہور کی پچ میں ضرورت سے زیادہ ناہموار پن یا اسپن کا مظاہرہ نہیں دیکھا گیا تھا، جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر لگائی جانے والی پابندی کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ فیصلہ اس سیریز کے ڈیوائڈر میچ کے بعد سامنے آیا تھا جسے پاکستان نے چار وکٹوں سے جیت کر تین میچوں کی سیریز دو ایک سے اپنے نام کی تھی۔ پی سی بی کی جانب سے اس سے قبل بھی اس نوعیت کے چیلنجز کامیابی سے لڑے گئے ہیں۔ سال 2022 میں بھی انگلینڈ کے خلاف راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے بعد آئی سی سی کی جانب سے دیے جانے والے ڈی میرٹ پوائنٹ کو پی سی بی کی اپیل کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔ حالیہ فیصلے کے نتیجے میں اب لاہور کا قذافی اسٹیڈیم کسی بھی ڈی میرٹ پوائنٹ سے خالی ہو گیا ہے اور اس کا ریکارڈ بالکل صاف ہو چکا ہے۔ دوسری جانب آئی سی سی نے کینیڈا کے ٹورنٹو میں واقع میپل لیف کرکٹ گراؤنڈ کے حوالے سے بھی فیصلوں کا اعلان کیا جہاں ایک میچ کا ڈی میرٹ پوائنٹ تو واپس لے لیا گیا تاہم دوسرے میچ کے دوران پچ کو خطرناک قرار دینے پر تین ڈی میرٹ پوائنٹس اور 'غیر موزوں' (Unfit) کی ریٹنگ کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ان تمام فیصلوں کے بعد اب قذافی اسٹیڈیم پر کوئی ڈی میرٹ پوائنٹ باقی نہیں بچا ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ اور شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔