World
مصر دمیات پورٹ ڈرون حملہ سویز کینال سیکیورٹی خبریں
مصر کی اہم دمیات پورٹ پر ہونے والے مبینہ ڈرون حملے اور جہازوں میں آگ لگنے کے واقعے نے نہرِ سویز کے قریب خطے میں سیکیورٹی کے نئے خطرات کو جنم دے دیا ہے۔ متعلقہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ پورٹ پر جہازوں کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری ہے اور آپریشنل کارکردگی مکمل طور پر بحال ہے۔
مصر کی اہم بحری گزرگاہ اور تجارتی مرکز دمیات پورٹ پر حالیہ دنوں میں ایک مبینہ ڈرون حملے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ کے اس حساس تجارتی راستے پر سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں بندرگاہ پر کھڑے کچھ جہازوں میں آگ لگ گئی، جس سے خطے میں پھیلتی ہوئی جنگی کشیدگی کے اثرات اب مصر کے ساحلوں تک پہنچتے ہوئے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس واقعے نے دنیا بھر میں تجارتی سپلائی لائنز اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب مصری حکام اور پورٹ مینجمنٹ نے صورتحال پر فوری قابو پاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دمیات پورٹ پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر رواں دواں ہے اور بندرگاہ اپنی پوری آپریشنل کارکردگی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا تھا اور کسی بڑے جانی نقصان یا پورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اس بیان کا مقصد عالمی مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ مصر کی سمندری حدود اور اہم تجارتی بندرگاہیں محفوظ اور فعال ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے کے مختلف حصوں بالخصوص عراق اور بحیرہ احمر کے اطراف میں بھی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس نے روایتی جنگی خطرات کو نئے اور غیر متوقع دائروں تک پھیلا دیا ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نہرِ سویز اور اس کے گردونواح میں سیکیورٹی خدشات کا بڑھنا عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ دنیا کا ایک بہت بڑا تجارتی اور تیل کا ذخیرہ اسی راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ متعلقہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بروقت نپٹا جا سکے۔