Technology
صالح آصف اور کرسر کا اے آئی انڈسٹری میں نمایاں کارنامہ
خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت پر مبنی کوڈنگ ٹول 'کرسر' تیار کرنے والی کمپنی اینیسفیئر کو ساٹھ ارب ڈالر میں خرید لیا ہے۔ اس تاریخی معاہدے کے پس منظر میں پاکستانی نژاد شریک بانی صالح آصف اور ان کی ٹیم کی جانب سے اے آئی کی صنعت میں شناخت کیا گیا ایک اہم خلا سامنے آیا ہے۔
چودہ اگست کو اسپیس ایکس نے مقبول ترین مصنوعی ذہانت کے حامل کوڈنگ ٹول 'کرسر' تیار کرنے والی کمپنی اینیسفیئر کو ساٹھ ارب ڈالر کے تاریخی معاہدے کے تحت خرید لیا ہے۔ اس خریداری کو اب تک کے سب سے بڑے اسٹارٹ اپ سودوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس انضمام کے بعد نئی بننے والی کمپنی 'اسپیس ایکس اے آئی' انٹرپرائز اے آئی کی دنیا میں ایک بڑا کھلاڑی بن گئی ہے اور اب وہ اوپن اے آئی اور اینتھراپک کی براہ راست حریف بن چکی ہے۔ اس کمپنی کے چار شریک بانیوں میں سے ایک کا تعلق پاکستان سے ہے جن کا نام صالح آصف ہے۔ کراچی کے رہائشی چھبیس سالہ صالح آصف نے نکسور کالج سے اے لیولز مکمل کرنے کے بعد بین الاقوامی ریاضی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یعنی ایم آئی ٹی سے اسکالرشپ حاصل کیا۔ انہوں نے سنہ دو ہزار بائیس میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر 'کرسر' کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اس خبر کا بیشتر حصہ مالیاتی پہلوؤں اور اربوں ڈالر کی قیمت تک محدود ہے، تاہم اس کے پیچھے ایک گہرا تکنیکی نکتہ بھی پوشیدہ ہے جسے ان طالب علموں نے دوسروں سے پہلے سمجھا۔
امریکہ میں قائم نیشنل فاؤنڈیشن فار امریکن پالیسی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں ایک ارب ڈالر یا اس سے زائد مالیت کی نجی کمپنیوں میں سے انسٹھ فیصد ایسی ہیں جن کی بنیاد تارکین وطن نے رکھی یا اس میں شریک بانی رہے۔ اس فہرست میں بھارت پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان بھی اس جدول میں شامل ہے جس میں صالح آصف سمیت دس پاکستانی بانیوں کے نام نمایاں ہیں۔ ان اعداد و شمار سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تکنیکی تربیت کو کس طرح اتنی قیمتی چیز میں بدلا جائے جس کی مارکیٹ میں قدر ہو۔ آج کے دور میں سافٹ ویئر بنانا نسبتاً سستا، آسان اور تیز ہو چکا ہے، جہاں چھوٹی ٹیمیں وہ کام کر سکتی ہیں جن کے لیے پہلے پورا محکممہ درکار ہوتا تھا۔ تاہم، آسان تعمیر یہ نہیں بتاتی کہ اصل میں کیا تعمیر کیا جانا چاہیے۔ اس تناظر میں اینتھراپک کے بورس چرنی نے 'پروڈکٹ اوور ہینگ' کا ذکر کیا ہے، یعنی مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی اصل صلاحیت اور اس کے گرد بنے ہوئے سافٹ ویئر کے درمیان موجود فاصلہ۔
بورس چرنی کے مطابق، ہم اکثر اے آئی ماڈلز کی اصل صلاحیتوں کو نادانستہ طور پر محدود کر دیتے ہیں۔ جب کلود سونیٹ ساڑھے تین ماڈل متعارف کرایا گیا تو اس وقت کے کوڈنگ ٹولز صرف جملے مکمل کرنے کی حد تک کام کر رہے تھے، حالانکہ ماڈل خود اتنی صلاحیت رکھتا تھا کہ وہ پوری فائلیں تحریر کر سکے۔ کرسر کی ٹیم نے شروعات میں اسی خلا کو محسوس کیا اور محض روایتی فیچرز بڑھانے کے بجائے ماڈل کو براہ راست کام کرنے کے ماحول تک رسائی دی۔ ان بانیوں کے پاس مائیکروسافٹ یا گوگل جیسے وسائل نہیں تھے، لیکن ایم آئی ٹی کی تربیت اور اس خلا کو بروقت پہچاننے کی صلاحیت نے انہیں اس مقام پر پہنچایا۔ آئیڈیاز خود بخود دولت نہیں بنتے، بلکہ وہ اس وقت قیمتی بنتے ہیں جب کوئی فرد انہیں عملی جامہ پہنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔
اینتھراپک کمپنی میں اب یہ معمول بن چکا ہے کہ جب کوئی نیا ماڈل سامنے آتا ہے تو وہ اس میں مزید ہدایات یا سہاروں کا اضافہ کرنے کے بجائے پرانی ہدایات کو ختم کرتے ہیں۔ اس عمل کو 'ایبلیشن' کہا جاتا ہے یعنی غیر ضروری چیزوں کو ہٹا کر دیکھنا کہ ماڈل خود سے کیا کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں کامیابی کا راز محض نئی مصنوعات بنانے میں نہیں بلکہ موجودہ سسٹمز میں چھپے ہوئے ان غیر استعمال شدہ توازن اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں ہے جو صالح آصف اور ان کے ساتھیوں نے کرسر کے ذریعے کامیابی سے دنیا کو دکھایا۔