LIVE
Loading Breaking News...

قومی اسمبلی میں فوجی امور اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی بلز منظور

News Image
قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اکثریت رائے سے فوجی امور اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق اہم بلز منظور کر لیے گئے ہیں۔ یہ قانون سازی ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت ہونے والی تبدیلیوں کے تسلسل میں عمل میں آئی ہے۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے اہم اجلاس کے دوران ارکانِ پارلیمنٹ نے کثرتِ رائے سے فوجی امور اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق اہم بلز کی منظوری دے دی ہے۔ ان تمام قانون ساز اقدامات کا بنیادی مقصد ملکی دفاعی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا اور سٹریٹجک امور کے نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے۔ اجلاس کے دوران اراکین نے بل کے مختلف شقوں پر تفصیلی بحث کی اور آخر کار اکثریتی رائے سے انہیں منظور کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ ان اقدامات سے قبل وفاقی کابینہ نے بھی ان مسودہ قانون کی باضابطہ منظوری دی تھی جس کے بعد اسے ایوانِ زیریں میں پیش کیا گیا۔ یہ اہم قانون سازی ملک میں حالیہ ہونے والی ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد سامنے آنے والی تبدیلیوں کا ہی ایک تسلسل ہے۔ سیاسی اور آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ ان قوانین کی منظوری سے ملکی دفاعی اداروں کے دائرہ کار اور انتظامی امور میں مزید بہتری آئے گی، جبکہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے حوالے سے اہم فیصلوں کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہو جائے گا۔ اس موقع پر حکومتی بنچوں کے ارکان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی اور دفاعی اداروں سے جڑے امور پر تمام سیاسی قوتوں کو یکسو ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی بیرونی یا اندرونی چیلنج سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہوا جا سکے۔ دوسری جانب اپوزیشن ارکان کی جانب سے اس عمل پر کچھ تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا تاہم اکثریتی رائے کی بنیاد پر بلز کو ایوان سے منظور کرا لیا گیا۔