Pakistan
کراچی جناح اسپتال واقعہ: آئی سی یو میں داخلہ نہ ملنے سے ماں اور بچہ جاں بحق
کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں بستر نہ ملنے کے باعث ایک خاتون اور ان کا نو مولود بچہ جاں بحق ہو گئے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد اسپتال کی انتظامیہ اور طبی سہولیات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں طبی غفلت اور انتظامات کی کمی کا ایک اور دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے جہاں انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) میں داخلہ نہ ملنے کے باعث ایک خاتون اور ان کا نوزائیدہ بچہ جان کی بازی ہار گئے۔ یہ المناک واقعہ شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کی ابتر صورتحال اور ایمرجنسی انتظامات کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق خاتون کو نازک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے فوری طور پر آئی سی یو یا وینٹیلیٹر کی ضرورت بتائی۔ تاہم اسپتال انتظامیہ کی جانب سے مسلسل لیت و لعل سے کام لیا گیا اور یہ موقف اختیار کیا گیا کہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں کوئی بستر خالی نہیں ہے۔ بروقت طبی امداد اور آئی سی یو کی سہولت میسر نہ آنے کی وجہ سے پہلے بچہ اور کچھ دیر بعد اس کی ماں بھی دم توڑ گئی۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں غریب مریضوں کے لیے زندگی کی کوئی وقعت نہیں بچی اور معمولی نوعیت کی سہولیات کے لیے بھی مریضوں کو ترسایا جاتا ہے۔ حکام کی غفلت اور اسپتالوں میں عملے کی مبینہ لاپرواہی کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد اعلیٰ حکام نے نوٹس لینے کا عندیہ دیا ہے تاہم زمین پر صورتحال جوں کی توں ہے۔ شہریوں اور لواحقین نے حکومت سندھ اور وزارتِ صحت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس المناک واقعے کی شفاف انکوائری کی جائے، غفلت کے مرتکب عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور سرکاری اسپتالوں میں آئی سی یو کے بستروں کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس دردناک صورتحال کا سامنا نہ کرناپڑے۔