LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی میں گرمی سے چودہ ہزار اموات، سرکاری رپورٹ جاری

News Image
جرمن حکومت کے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق رواں موسم گرما کے دوران ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے چودہ ہزار سے زائد اموات واقع ہو چکی ہیں۔ یہ رپورٹ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور انسانی صحت پر ان کے منفی اثرات کی سنگین عکاسی کرتی ہے۔
برلن (نیکسورا نیوز اردو) جرمنی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور شدید گرمی کے انسانی جانوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق رواں موسم گرما کے دوران ملک بھر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے نتیجے میں تقریباً چودہ ہزار افراد کی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان اعداد و شمار نے طبی ماہرین اور حکومتی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ یورپ بھر میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں اس طرح کی شدید موسمیاتی تبدیلیاں مزید خطرات کا باعث بن سکتی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومتی اداروں اور صحت عامہ کے محکموں کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر تعداد بزرگ شہریوں اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کی تھی۔ شدید گرمی کی لہر کے دوران اسپتالوں پر بھی دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا اور ایمرجنسی وارڈز میں ہیٹ اسٹروک کے شکار مریضوں کی بڑی تعداد لائی گئی۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گرمی کے یہ طویل دورانیے اب معمول بنتے جا رہے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر جرمن حکومت پر عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقداماتن کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماحولیاتی تنظیموں اور طبی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ شہروں میں سبزہ زاروں میں اضافہ کیا جائے اور شدید گرمی کے دنوں میں شہریوں خصوصاً بزرگوں کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اور پناہ گاہوں کا انتظام کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے اس رپورٹ کے اجراء کا مقصد عوام میں اس بات کا شعور بیدار کرنا بھی ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف ایک موسمیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جان کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔