LIVE
Loading Breaking News...

رابرٹ بش جنازہ فراڈ کیس: متاثرین رقم کی واپسی کے لیے پریشان

News Image
رابرٹ بش نامی فراڈ ڈائریکٹر نے 172 افراد سے جنازے کے منصوبوں کے نام پر پانچ لاکھ باسٹھ ہزار پاؤنڈ لوٹ لیے تھے۔ متاثرہ خاندانوں کو تاحال ان کی رقوم کی واپسی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
برطانیہ میں ایک بدنام زمانہ اور نااہل جنازہ ڈائریکٹر کے فراڈ کا شکار ہونے والے افراد کو تاحال شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ عدالت میں ہونے والی حالیہ سماعتوں کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملزم رابرٹ بش نے جنازے کے نام پر معصوم شہریوں سے لاکھوں پاؤنڈز بٹورے اور اب متاثرین کو ان کی رقوم واپس ملنے میں شدید قانونی اور انتظامی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اس سنگین صورتحال نے متاثرہ خاندانوں کو دگنے صدمے سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ وہ اپنے پیاروں کی تدفین کے لیے جمع کی گئی زندگی بھر کی پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے مطابق، رابرٹ بش نے مجموعی طور پر ایک بہتر مستقبل اور باعزت تدفین کے خواب دکھا کر ایک سو بہتر (172) افراد کو دھوکہ دیا۔ اس نے ان سے جنازے کے مختلف منصوبوں (فیونرل پلانز) کی مد میں مجموعی طور پر پانچ لاکھ باسٹھ ہزار (£562,000) پاؤنڈز کی بڑی رقم ہتھیائی۔ متاثرین کی اکثریت کا تعلق متوسط طبقے سے ہے جنہوں نے بڑی مشکل سے یہ پیسے جمع کیے تھے تاکہ بوقت ضرورت ان کے یا ان کے عزیزوں کے آخری رسومات میں کسی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس فراڈ کے منظر عام پر آنے کے بعد جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کے خلاف گھیرا تنگ کیا، وہیں متاثرہ خاندان اب بھی انصاف اور اپنے فنڈز کی بازیابی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اس پیچیدہ معاملے میں رقوم کی واپسی کے لیے تمام قانونی پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ متاثرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا فوری نوٹس لیا جائے اور ان کے لوٹے گئے پیسے جلد از جلد واپس دلائے جائیں تاکہ وہ اس ذہنی اذیت سے نجات حاصل کر سکیں۔