Technology
دس سالہ طالبعلم کی اے آئی الیکٹرانک ناک، سلیکن ویلی کا اعزاز
تائیوان سے تعلق رکھنے والے دس سالہ باصلاحیت طالبعلم سو ٹنگ وئی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک الیکٹرانک ناک تیار کی ہے۔ اس شاندار ایجاد نے ائیرپورٹ کی سکریننگ کے نظام میں بہتری لاتے ہوئے خطرناک اشیاء کا پتہ لگانے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔
تائیوان سے تعلق رکھنے والے صرف دس سالہ باصلاحیت طالبعلم سو ٹنگ وئی نے دنیا بھر میں اپنی ذہانت کا لوہا منواتے ہوئے سلیکن ویلی کا ایک انتہائی اہم اور وقار والا ایجاداتی انعام اپنے نام کر لیا ہے۔ کم عمری میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کرنے والے اس طالبعلم نے ایک ایسی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ’الیکٹرانک ناک‘ تیار کی ہے جو ائیرپورٹس پر سامان کی چیکنگ اور سکریننگ کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ اس جدید ترین ڈیوائس کا بنیادی مقصد ائیرپورٹس اور سرحدی گزرگاہوں پر منشیات، خطرناک مادوں اور جانوروں کی خطرناک بیماریوں جیسے کہ افریقی سوائن فیور کی بروقت اور مؤثر شناخت کرنا ہے۔ یہ ایجاد ہوابازی اور سکیورٹی کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس کی مدد سے روایتی سکریننگ کے طریقوں کو مزید تیز اور غلطیوں سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کی اس انوکھی مثال نے سلیکن ویلی کے ماہرین اور ججز کو بھی دنگ کر دیا ہے۔ سو ٹنگ وئی کی تیار کردہ اس اے آئی ڈیوائس میں جدید سنسرز اور مشین لرننگ الگورتھمز کا استعمال کیا گیا ہے جو مختلف قسم کی بو اور کیمیائی اجزاء کو سیکنڈوں کے اندر پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس الیکٹرانک ناک کی مدد سے ائیرپورٹ سکیورٹی اہلکاروں کو خطرناک اشیاء اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں نمایاں مدد ملے گی، جبکہ زرعی و لائیو سٹاک انڈسٹری کو افریقی سوائن فیور جیسی خطرناک وباء سے بچانے کے لیے بھی یہ ایک مؤثر حفاظتی ڈھال ثابت ہوگی۔ کم عمری میں اتنی پیچیدہ ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا اور اسے عملی شکل دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والا دور مصنوعی ذہانت اور نوجوان ذہنوں کا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ایجادات مستقبل میں عالمی سکیورٹی اور صحت کے شعبوں کو یکسر بدل کر رکھ دیں گی۔ سو ٹنگ وئی کی اس شاندار کامیابی پر تائیوان میں بھی جشن کا سا ماحول ہے اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے اسے بھرپور خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کم عمر موجد کے والدین اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ بچپن ہی سے سائنسی تجربات اور کمپیوٹر سائنس میں گہری دلچسپی رکھتا تھا اور اس نے دن رات محنت کر کے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ سلیکن ویلی میں ملنے والی اس پذیرائی کے بعد سو ٹنگ وئی کے عزائم مزید بلند ہو گئے ہیں اور وہ مستقبل میں بھی انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کا عزم رکھتا ہے۔