LIVE
Loading Breaking News...

پوسٹ گریس اور اوریکل کا تعلق، بانی کا اہم انکشاف

News Image
پوسٹ گریس کے تخلیق کار مائیکل اسٹون بریکر کا کہنا ہے کہ اوریکل کی پالیسیوں کی وجہ سے اس اوپن سورس ڈیٹا بیس کو دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ مائیکل کے مطابق آج مائیکروسافٹ، اے ڈبلیو ایس اور گوگل جیسی بڑی کمپنیاں بھی اس ٹیکنالوجی کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔
پوسٹ گریس (PostgreSQL) کے تخلیق کار مائیکل اسٹون بریکر نے ایک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوریکل (Oracle) نے لاعلمی میں ہی پوسٹ گریس کو دنیا کی سب سے بڑی ڈیٹا بیس ٹیکنالوجی بننے میں زبردست مدد فراہم کی۔ آج کے دور میں مائیکروسافٹ، ایمیزون ویب سروسز (AWS) اور گوگل جیسی بڑی اور صف اول کی ٹیک کمپنیاں اس اوپن سورس ڈیٹا بیس ٹیکنالوجی کی پشت پناہی کر رہی ہیں، جس کے پیچھے ایک طویل تاریخی پس منظر موجود ہے۔ مائیکل اسٹون بریکر کے مطابق، ماضی میں اوریکل کی کاروباری حکمت عملی اور مارکیٹ کے حالات نے کچھ ایسے مواقع پیدا کیے جن سے پوسٹ گریس کو اوپن سورس کی دنیا میں تیزی سے ابھرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ابتدائی دنوں میں اس ٹیکنالوجی کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت نے اسے صنعت کا پسندیدہ ترین ٹول بنا دیا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے مزید واضح کیا کہ کس طرح ڈیٹا بیس کی صنعت میں مقابلے کی فضا نے نئی راہیں استوار کیں۔ اوریکل کی جانب سے مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوششوں کے ردعمل میں ڈویلپرز اور محققین نے متبادل اور زیادہ لچکدار سسٹمز کی طرف دیکھنا شروع کیا، اور یہی وہ موڑ تھا جہاں پوسٹ گریس نے اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ آج یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر کے ہزاروں سسٹمز اور انٹرپرائز ایپلیکیشنز کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اوپن سورس کا یہ سفر اوریکل جیسے روایتی جنات کے مقابلے میں ایک انقلاب ثابت ہوا ہے، جس نے سافٹ ویئر کی دنیا کے افق پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔