LIVE
Loading Breaking News...

روسی انفراسٹرکچر پر حملے، پیوٹن کا بیان اور سکیورٹی صورتحال

News Image
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے پر دہشتگردانہ حملوں کے باوجود کوئی سنگین نتائج یا بحران پیدا نہیں ہوا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو سکیورٹی مزید سخت کرنے اور اہداف کی کڑی نگرانی کی ہدایت کی ہے۔
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے دہشتگردانہ حملے کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں کچھ نقصانات تو ضرور ہوئے ہیں، تاہم ان کے اثرات سے کوئی بڑا یا بحرانی خطرہ پیدا نہیں ہوا۔ صدر پیوٹن نے سکیورٹی حکام کے ساتھ ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ملک کے دفاعی اور معاشی ڈھانچے پر ہونے والے ان حملوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ اداروں کو اپنی تیاریوں کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن قوتیں مسلسل کوشش کر رہی ہیں کہ روس کے نظام کو مفلوج کیا جائے، لیکن ریاستی ادارے اور سکیورٹی فورسز ان تمام سازشوں کا موثر طریقے سے مقابلہ کر رہی ہیں اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ روسی حکام کے مطابق، حالیہ کارروائیوں میں نشانہ بننے والی تنصیبات کی مرمت اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ عام شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس دوران ماہرین کا ماننا ہے کہ روس اپنے اہم انفراسٹرکچر کی سکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کے لیے نئی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے جس میں جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام کو یقین دلایا گیا ہے کہ ملکی معیشت اور توانائی کا نظام مستحکم ہے اور اس طرح کے بزدلانہ حملے ملکی عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔