LIVE
Loading Breaking News...

شمالی کوریا کی میزائل فائرنگ، سیول کا ردعمل اور ٹرمپ کی پیشکش

News Image
شمالی کوریا نے ایک بار پھر میزائل فائر کیے ہیں جن کی تصدیق جنوبی کوریا کی فوج نے کی ہے۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کم جونگ ان سے دوبارہ ملاقات کی خواہش ظاہر کرنے کے فورا بعد سامنے آئی ہے۔
شمالی کوریا نے ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ کرتے ہوئے میزائل فائر کر دیئے ہیں۔ جنوبی کوریا کی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب چند روز قبل ہی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ایک بار پھر ملاقات کرنے اور اچھے تعلقات بحال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ مبصرین کے مطابق، پیانگ یانگ کی جانب سے یہ اقدام اپنی عسکری طاقت کے اظہار اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے کی ایک اور کوشش ہو سکتا ہے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے بتایا کہ انہوں نے ان میزائلوں کی پرواز کا بغور مشاہدہ کیا ہے اور خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ کورین جزیرہ نما میں پہلے ہی طویل عرصے سے تناؤ پایا جاتا ہے، اور اس طرح کے میزائل تجربات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، یہ حالیہ تجربات خطے میں سکیورٹی خدات کو بڑھا رہے ہیں اور سیول نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے اکثر ایسے موقعوں پر عسکری سرگرمیاں تیز کی جاتی ہیں جب کوئی اہم سیاسی بیان سامنے آئے یا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ سفارتی ڈیڈ لاک برقرار ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ بیان بازی کے بعد پیانگ یانگ کا یہ ردعمل اس بات کا غماز ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات سے پہلے اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ عالمی برادری نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی ردعمل سامنے آنے کی توقع ہے، بالخصوص واشنگتن اور سیول کے درمیان ہونے والے آئندہ سکیورٹی مذاکرات میں اس کا احاطہ کیا جائے گا۔ ماہرینِ امورِ بین الاقوامی کا ماننا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کا قیام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب فریقین اشتعال انگیز کارروائیوں سے گریز کریں اور بامقصد بات چیت کا آغاز کریں۔