World
روس کا یوکرین پر بڑا میزائل اور ڈرون حملہ، زیلنسکی کا ردعمل
روس کی جانب سے یوکرین پر ستر سے زائد میزائلوں اور دو سو اسّی ڈرونز سے کیے گئے شدید حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
ماسکو کی جانب سے ایک بار پھر یوکرین کے مختلف شہروں کو شدید فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی اور قیمتی جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ روسی افواج نے یوکرین کے بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں پر ستر سے زائد میزائل اور تقریبا دو سو اسّی ڈرونز داغے، جو جنگ کے دوران کیے جانے والے سب سے بڑے مربوط حملوں میں سے ایک ہیں۔ ان اندھا دھند حملوں کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں بجلی اور پانی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے جبکہ عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یوکرین کے حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم آٹھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ ریسکیو ادارے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ اس ہولناک صورتحال کے پیش نظر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک بار پھر عالمی برادری کو سخت پیغام دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے دشمن کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے فوری اور غیر مشروط حمایت کا مطالبہ کیا۔ صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بزدلانہ حملے یوکرین کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، تاہم عالمی طاقتوں کو یوکرین کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جدید فضائی دفاعی نظام کی فراہمی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس تازہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی اس قسم کے حملے یوکرین میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔