World
اقوام متحدہ سلامتی کونسل: چین کی اتحاد کی اپیل اور بھارت کا موقف
چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام اراکین پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے قیام کے لیے باہمی اتحاد اور تعاون کو فروغ دیں۔ دوسری جانب بھارت نے کونسل میں دہشت گردوں کو بچانے اور تنگ نظر سیاسی مفادات کے حصول کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس کے دوران عالمی امور پر بحث و مباحثہ جاری ہے، جس میں چین نے کونسل کے اراکین پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ چینی حکام کا ماننا ہے کہ موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سلامتی کونسل کے اراکین کے درمیان یکجہتی انتہائی ضروری ہے تاکہ دنیا بھر میں جاری تنازعات کا پرامن حل نکالا جا سکے اور عالمی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب، اس اجلاس میں بھارت نے بھی اپنے سخت موقف کا اظہار کیا ہے اور سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم کو اپنے تنگ نظر سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ بھارتی نمائندگان نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بعض ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو بچانے کی کوششیں سلامتی کونسل کے وقار اور مقاصد کے منافی ہیں۔ بھارت کا یہ بھی مؤقف ہے کہ کونسل کی رکنیت کو کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کو جواز فراہم کرنے یا انہیں قانونی تحفظ دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
اجلاس کے دوران مختلف بین الاقوامی تنازعات اور تناؤ پر بھی کھل کر بات چیت کی گئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں اس قسم کے اختلافات اور مباحث اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کے درمیان مفادات کی جنگ بدستور جاری ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کو متعدد سنگین بحرانوں کا سامنا ہے، کونسل کے اراکین کے درمیان اتحاد کی کال دینا اور ساتھ ہی ایک دوسرے پر سخت تنقید کرنا عالمی سفارت کاری میں پیچیدہ صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔
علاوہ ازیں، اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سلامتی کونسل کو زیادہ مؤثر اور غیر جانبدار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ دنیا بھر میں انسانی المیوں کو روکا جا سکے۔ عالمی برادری توقع کرتی ہے کہ سلامتی کونسل کے اراکین اپنے ذاتی اور علاقائی مفادات سے بالاتر ہو کر عالمی امن اور انسانیت کی بقا کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں گے، تاکہ دنیا کو مزید تباہی اور تنازعات سے بچایا جا سکے۔