World
غزه میں پچاس فلسطینی شہداء کی تدفین، ملبے سے لاشیں برآمد
غزه میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے حال ہی میں نکالی جانے والی پچاس لاشوں کی نمازِ جنازہ اور تدفین کا عمل مکمل کر لیا گیا۔ اس دلخراش واقعے نے خطرے میں پھنسے شہریوں کی مشکلات کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے اجاگر کر دیا ہے۔
غزه کی پٹی میں جاری شدید تباہ کاریوں اور بمباری کے دوران تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے حال ہی میں پچاس فلسطینی شہریوں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ ان لاشوں کے ملنے کے بعد علاقے میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی اور لواحقین کی بڑی تعداد اپنے پیاروں کو آخری وداع کہنے کے لیے جمع ہوئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان تمام افراد کی اجتماعی اور انفرادی حیثیت میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور انہیں مقامی قبرستانوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اس المناک موقع پر فضا سوگوار تھی اور شہریوں کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ غزه میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور ضروری مشینری اور ایندھن کی قلت کے باعث ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا انتہائی مشکل کام بن چکا ہے۔ اس کے باوجود رضاکار اور مقامی شہری اپنی مدد آپ کے تحت یا محدود وسائل کے ساتھ ملبہ ہٹانے اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر جنگ سے متاثرہ اس خطے میں انسانی المیے کی سنگین نوعیت کو دنیا بھر کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ غزه کے عوام کو فوری طور پر امداد فراہم کی جائے اور اس جاری کشمکش کو ختم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو ریلیف مل سکے۔