World
یوکرین: جنگی حالات میں انتخابات کا مطالبہ اور صدر زیلنسکی پر دباؤ
یوکرین کے سابق دفاعی سربراہ فیودروف کی جانب سے جنگ کے دوران انتخابات کرانے کے مطالبے نے صدر زیلنسکی کی حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ تاہم، روسی بمباری کے سائے میں ملک بھر میں عام انتخابات کا انعقاد انتہائی مشکل امر مانا جا رہا ہے۔
یوکرین کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ملک کے سابق دفاعی سربراہ اور ایک مقبول شخصیت فیودروف نے جنگی حالات کے باوجود ملک میں عام انتخابات کرانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کے اس بیان نے موجودہ صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت پر سیاسی دباؤ کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، کیونکہ ملک پہلے ہی روسی بمباری اور شدید فوجی دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس مطالبے کو لے کر بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا موجودہ انتہائی نازک حالات میں انتخابی عمل کو ممکن بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
فیودروف، جنہیں یوکرین کی عوام میں کافی مقبولیت حاصل ہے، صدر زیلنسکی کے ممکنہ سیاسی حریف کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں۔ ان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پورا ملک جنگ کی تباہ کاریوں سے گزر رہا ہے اور لاکھوں شہری نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ ناقدین اور حکومت کا کہنا ہے کہ روسی حملوں اور ملک کے بیشتر حصوں میں جاری لڑائی کے پیش نظر شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد عملی طور پر ناممکن ہے۔ سکیورٹی خدشات اور ووٹرز کی رجسٹریشن کے مسائل اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، اس مطالبے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ جمہوری عمل کا جاری رہنا یوکرین کی سیاسی بقا اور بین الاقوامی برادری کے سامنے اس کی جمہوری اقدار کے دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جنگ کو جواز بنا کر جمہوری عمل کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اس تمام صورتحال میں صدر ولادیمیر زیلنسکی کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ ایک طرف ملک کا دفاع اولین ترجیح ہے تو دوسری طرف سیاسی شفافیت کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔