LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ پاکستان سفارتی تنازعہ: ٹرمپ کے ایلچی کا دورہ کشمیر

News Image
امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک اعلیٰ ٹرمپ ایلچی کے متنازعہ دورہ کشمیر کے بعد سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ اس دورے کے دوران دیے گئے بیانات واشنگٹن کے روایتی موقف سے متصادم ہیں۔
امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں اس وقت ایک نیا سفارتی بحران اس وقت پیدا ہو گیا جب ٹرمپ انتظامیہ کے ایک خصوصی ایلچی نے متنازعہ خطے کشمیر کا دورہ کیا۔ اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان الفاظ کی جنگ شروع ہو گئی ہے اور اسلام آباد نے اس دورے کے دوران سامنے آنے والے بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کا ماننا ہے کہ یہ تبصرے اور بیانات واشنگٹن کے طویل عرصے سے چلے آ رہے اس سرکاری موقف کے برعکس ہیں جس میں کشمیر کو فریقین کے درمیان باہمی مذاکرات کے ذریعے حل طلب مسئلہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی امور کے ماہرین اور سفارتی تجزیہ کار اس واقعے کو ایک بڑا سفارتی اقدام قرار دے رہے ہیں جو کہ نادانستہ طور پر یا غلط حکمت عملی کے تحت اٹھایا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دورے خطے میں پہلے سے موجود حساس سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور امریکہ کی جانب سے ایک توازن برقرار رکھنے کی روایتی سفارتی پالیسی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرنے کے بعد واشنگٹن کے حلقوں میں بھی اس دورے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امن و امان کی بحالی اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے دوطرفہ اور کثیرالجہتی کوششیں جاری ہیں۔ اسلام آباد میں پالیسی سازوں کا یہ کہنا ہے کہ اس طرح کے غیر متوقع اقدامات نہ صرف پاک امریکہ تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے کے دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں ممالک اس سفارتی تناؤ کو کم کرنے کے لیے کون سے لائحہ عمل کا انتخاب کرتے ہیں اور واشنگٹن اس معاملے پر اسلام آباد کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتا ہے۔