LIVE
Loading Breaking News...

امریکی قومی قرضہ چالیس ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا، معاشی اثرات

News Image
امریکہ کا مجموعی قومی قرضہ پہلی بار چالیس ٹریلین ڈالر کی تاریخی حد عبور کر گیا ہے۔ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوںحکومتوں کے دوران بھاری قرض لینے، بڑھتے ہوئے اخراجات اور ٹیکس کٹوتیوں نے اس مالی بحران کو جنم دیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کا مجموعی قومی قرضہ اپنی تاریخ میں پہلی بار چالیس ٹریلین ڈالر کی حیرت انگیز سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس تشویشناک سنگ میل نے ایک بار پھر عالمی مالیاتی اداروں اور معاشی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ امریکی حکومت کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مالیاتی خسارے کی وجہ سے ملک پر قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس پر اب سنجیدہ مباحثے شروع ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کے طویل المدتی اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ اس ریکارڈ قرضے کے پیچھے طویل عرصے سے جاری سیاسی رجحانات کارفرما ہیں۔ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں ہی جماعتوں کی سابقہ اور موجودہ انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی بھاری قرض لینے کی پالیسیاں، دفاعی و فلاحی مد میں بڑھتے ہوئے اخراجات، اور ماضی میں منظور کی جانے والی ٹیکس کٹوتیاں اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد عوامی منصوبوں اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قرضوں پر انحصار کرتی چلی آ رہی ہیں، جس کا نتیجہ اس ہوشربا اعداد و شمار کی صورت میں نکلا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ واشنگٹن پر اصل میں کس کا کتنا قرض ہے؟ امریکی قومی قرضے کا ایک بڑا حصہ خود امریکی اداروں، پنشن فنڈز اور فیڈرل ریزرو کے پاس موجود سیکیورٹیز کی شکل میں ہے۔ تاہم، اس کا نمایاں حصہ غیر ملکی حکومتوں اور سرمایہ کاروں بالخصوص جاپان، چین اور دیگر ممالک کے پاس بھی ہے جو امریکی سرکاری بانڈز خریدتے ہیں۔ اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر قرض لینے کے اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو امریکہ کو مستقبل میں سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینا پڑے گا، جو معیشت کو ایک خطرناک گرداب میں دھکیل سکتا ہے۔