LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران کے خلاف معاشی تنہائی کی نئی مہم کا اعلان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاشی طور پر مکمل طور پر تنہا کرنے کے لیے ایک نئی مہم کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس نئی مہم کے تحت تہران کے ساتھ تجارت کرنے والے شراکت داروں کو بھی سخت ترین اقتصادی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک نئی اور سخت اقتصادی مہم کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا بنیادی مقصد تہران کو معاشی طور پر دنیا بھر سے الگ تھلگ کرنا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت نہ صرف ایران کی حکومت کو براہ راست اقتصادی دباؤ میں لایا جائے گا بلکہ ان تمام بین الاقوامی تجارتی شراکت داروں کو بھی کڑی سزاؤں کا نشانہ بنایا جائے گا جو ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن میں پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ اس نئی اقتصادی مہم کے ذریعے ایران پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے اس کی ملکی معیشت کو شدید دھچکا لگے گا۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے اور امریکہ تہران کے خلاف اپنی روایتی سخت گیر پالیسی کو مزید تیز کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نئی مہم کے نفاذ سے بین الاقوامی منڈیوں اور ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے دیگرممالک بالخصوص ایشیائی اور یورپی ممالک کے لیے سفارتی و معاشی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ثانوی پابندیوں کا خطرہ ان تمام اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے جو ایرانی معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند ہیں۔ دوسری جانب، تہران کی حکومت نے ابھی تک اس نئی امریکی پالیسی پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم ایرانی حکام ماضی میں اس طرح کے اقدامات کو یکطرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے آئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس نئی مہم کے عالمی سیاست اور مشرق وسطیٰ کے اقتصادی توازن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔