LIVE
Loading Breaking News...

سیউটা میں تارکین وطن خواتین کو جنسی استحصال کا سامنا

News Image
ہسپرہ کے خود مختار علاقے سیউটা میں تارکین وطن خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ خواتین کو کڑے سکیورٹی حصار اور قانونی مسائل کی وجہ سے بروقت انصاف اور مدد کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہسپانیہ کے شمالی افریقہ میں واقع خود مختار علاقے سیউটা میں تارکین وطن خواتین کو شدید نوعیت کے جنسی استحصال اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر حفاظتی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سرحد پار کرنے والی یا عارضی کیمپوں میں رہنے والی خواتین اور لڑکیاں انتہائی کٹھن حالات میں زندگی بسر کر رہی ہیں جہاں ان کی حفاظت کے لیے ناکافی انتظامات ہیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق، پناہ کی تلاش میں آنے والی یہ خواتین سفر کے دوران اور منزل پر پہنچنے کے بعد مختلف قسم کے استحصال کی زد میں آ جاتی ہیں۔ پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ خواتین خوف اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اکثر اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی رپورٹ درج کروانے سے قاصر رہتی ہیں۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے مناسب تعاون نہ ملنے کی وجہ سے مجرموں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔ سیউটা کا یہ علاقہ یورپ میں داخل ہونے کے خواہشمند ہزاروں تارکین وطن کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، تاہم یہاں کے مراکز میں بنیادی سہولیات اور تحفظ کا فقدان ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے ہسپانوی حکومت اور یورپی یونین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں اور تارکین وطن خواتین کے لیے محفوظ پناہ گاہیں اور سخت حفاظتی پروٹوکول تشکیل دیں۔ اس کے علاوہ، متاثرہ خواتین کو طبی امداد اور نفسیاتی مشاورت کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ وہ اس ذہنی اور جسمانی اذیت سے باہر نکل سکیں۔