LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں فعال بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کا آغاز

News Image
پاکستان سے مبینہ طور پر چلائے جانے والے بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے معلومات طلب کر لی گئی ہیں۔ ایف آئی اے، این سی سی آئی اے اور پولیس اس گھناؤنے نیٹ ورک کے مالی اور ڈیجیٹل روابط کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان کی سرزمین سے دنیا بھر کے معصوم شہریوں کو مالی فراڈ کا نشانہ بنانے والے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے بعد تحقیقاتی اداروں نے اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس گھناؤنے نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) تک وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ ان مجرموں کے تمام مالی اور ڈیجیٹل نقوش کا سراغ لگایا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے امیگریشن، پاسپورٹ اور ویزا حکام سے بھی اہم معلومات طلب کی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس فراڈ نیٹ ورک کے پیچھے غیر ملکی عناصر یا مقامی سہولت کار بھی ملوث ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور پولیس مشترکہ طور پر ان جعلسازوں کے مالی لین دین اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس عالمی نیٹ ورک کے بنیادی کارندوں تک پہنچا جا سکے۔ یہ نیٹ ورک جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک مقیم افراد کو مختلف طریقوں سے ہدف بناتا تھا اور انہیں بھاری مالی نقصان پہنچاتا تھا۔ حکام کا عزم ہے کہ ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے اس عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی فراڈ کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے والے تمام کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ ادارے باہم قریبی تعاون کر رہے ہیں۔