Business
ٹیکنالوجی پیچھے رہ گئی، روایتی معیشت کا شعبہ مارکیٹ کا نیا رہنما بن گیا
مالیاتی منڈیوں میں ایک اہم تبدیلی کے تحت ٹیکنالوجی کا شعبہ اب مارکیٹ کا سب سے مہنگا سیکٹر نہیں رہا۔ اس کی جگہ روایتی معیشت سے تعلق رکھنے والے صنعتی گروپ نے لے لی ہے جو سرمایہ کاروں کی توجہ کا نیا مرکز بن گیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک طویل عرصے سے ٹیکنالوجی کا شعبہ سب سے مہنگا اور غلبہ رکھنے والا سیکٹر مانا جاتا رہا ہے، تاہم اب مارکیٹ کے رجحانات میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ٹیکنالوجی اب مارکیٹ کا سب سے مہنگا شعبہ نہیں رہا اور اس کی جگہ روایتی معیشت سے وابستہ ایک پرانے گروپ نے لے لی ہے۔ اس نئی تبدیلی نے وال اسٹریٹ اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ ماہرین کے مطابق صنعتی شعبہ (انڈسٹریلز) اب ٹیکنالوجی اور وسیع تر ایس اینڈ پی 500 انڈیکس کے مقابلے میں ایک مضبوط متبادل یا کیچ اپ ٹریڈ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ روایتی معیشت کے یہ ادارے اب زیادہ پائیدار اور مستحکم سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کا رجحان اب محض ڈیجیٹل اور ہائی ٹیک اثاثوں سے ہٹ کر حقیقی معیشت کے بنیادی شعبوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی عالمی منڈی کے ڈھانچے میں ایک گہرے فکری بدلاؤ کی غماز ہے۔ جب تک ٹیکنالوجی کے شعبے میں ویلیو ایشن حد سے زیادہ اونچی رہی، اس وقت تک دیگر شعبوں کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع محدود تھے۔ تاہم اب صنعتی اور مینوفیکچرنگ سے جڑے کاروباری ادارے مارکیٹ کی نئی قیادت سنبھالنے کے لیے بالکل تیار نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال میں انڈسٹریلز سیکٹر کی کارکردگی آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی مجموعی سمت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ سرمایہ کار اب اپنے پورٹ فولیو میں توازن پیدا کرنے کے لیے روایتی معیشت کے ان حصوں کا رخ کر رہے ہیں جو معاشی بحالی اور طویل مدتی ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔