LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کے ایران کو تنہا کرنے کے منصوبے اور چین روس کا کردار

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے اور تہران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔ تاہم، چین اور روس اس حکمت عملی کو ناکام بناتے ہوئے ایرانی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے اور اس کی معیشت کو کمزور کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے تہران پر اقتصادی جنگ اور سخت پابندیوں کے نفاذ کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے کسی بھی ملک کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا یا اس کی معیشت کو مفلوج کرنا ہے تاکہ وہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ سے دستبردار ہو جائے۔ دوسری جانب، ایران نے ان تمام دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اقتصادی جنگ اپنے مقاصد میں ناکام رہے گی۔ تہران کو اس بات کا ادراک ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ اور سپلائی کے خدشات کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پہلے ہی تین ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں چین اور روس کا کردار انتہائی اہم ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، بیجنگ اور ماسکو دونوں ہی تہران کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک اور تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے اور وہ امریکی دباؤ کے باوجود متبادل مالیاتی نظام اور تجارتی راستوں کے ذریعے ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح، روس بھی بین الاقوامی پابندیوں کے تناظر میں ایران کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اگر چین اور روس نے تہران کو معاشی اور سفارتی سطح پر تعاون فراہم کیا، تو واشنگٹن کے لیے ایران کو مکمل طور پر تنہا کرنا اور اس کی تجارت کو صفر تک پہنچانا ایک انتہائی مشکل ہدف ثابت ہوگا۔ اس صورتحال سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کا توازن متاثر ہو گا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں بھی مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔