LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کی رہائی اور عسکری قیادت سے تعلقات پر اہم انکشاف

News Image
ترکیہ ٹوڈے کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اگر سابق وزیراعظم عمران خان کو رہا کر دیا جاتا ہے تو وہ موجودہ آرمی چیف کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کریں گے۔ اس ممکنہ مصالحتی اشارے کو پاکستانی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان اگر جیل سے رہا ہو جاتے ہیں تو وہ ملک کے موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی یا ٹکراؤ کی پالیسی اختیار نہیں کریں گے۔ ترکیہ ٹوڈے کی ایک خصوصی رپورٹ میں عمران خان کے ایک قریبی ساتھی کے حوالے سے یہ اہم دعویٰ کیا گیا ہے، جس نے ملکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھوٹی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان پاکستانی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں ممکنہ مصالحتی پیشرفت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ رپورٹس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ ماضی کے برعکس مستقبل کی حکمت عملی میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان کی رہائی اور عسکری قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات کا مستقبل آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کا رخ طے کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں فوج اور سیاسی رہنماؤں کے تعلقات ہمیشہ سے حساس نوعیت کے رہے ہیں، اور ایسے بیانات کو ایک اہم سیاسی اسٹریٹجی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔